کرونا ہے یا عام بیماری، گھر بیٹھے معلوم کرنے کا طریقہ 👇

9:55 AM

کرونا ہے یا عام بیماری، گھر بیٹھے معلوم کرنے کا طریقہ:👇*
ڈاکٹروں کی جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا کے 70 فیصد متاثرین کی چکھنے اور سونگھنے کی حس ختم ہوجاتی ہے. اور جب یہ صحتیاب ہوجاتے ہیں تو ان کی حس بھی بحال ہوجاتی ہے.
ڈاکٹرز اس علامت کو خدائی نعمت قرار دے رہے ہیں.
آسان الفاط میں سمجھ لیں کہ اگر آپ کو کھٹی میٹھی یا کڑوی اشیاء(جیسے نمک، مرچ یا کسی کڑوی گولی) کے زائقے کا پتا نہیں چل رہا یا عطر /سینٹ کی خوشبو محسوس نہیں ہورہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں.... چاہے آپ میں ظاہری علامات نہ بھی ہوں، فورا خود کو گھر کے تمام افراد سے الگ کرکے قریبی قرنطنیہ سینئر پہنچ جائیں تاکہ بروقت علاج سے آپکی جان بچائی جاسکے.
اور اگر آپ میں کرونا کی تمام علامات موجود ہوں(جیسے بخار ہو، نزلہ زکام، سر درد) بھی ہو لیکن اسکے باوجود بھی آپ کی چکھنے اور سونگھنے کی حس(صلاحیت)بلکل ٹھیک کام رہی ہے پھر مبارک ہو آپکو کرونا وائرس نہیں بلکہ موسمی بیماری ہے.
ڈاکٹروں کے مطابق یہ خدا کی طرف سے کرونا متاثرین کو تلاش کرنے کی ایک نعمت ہے........ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے.
برائے مہربانی آج سے کرونا سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دیں،
معمولی نزلہ زکام یا بخاد کی صورت میں خود کو کرونا مریض نہ سمجھیں.
اگر پھر بھی شک ہو تو سب سے پہلے اپنے گھر میں ہی اپنی سونگھنے اور چکھنے کی حس کو چیک کریں، گھر میں نمک، مرچ، یا کوئی کڑوی گولی منہ میں رکھ کر دیکھیں کہ زائقہ محسوس ہورہا ہے یا نہیں، اور سینٹ یا عطر یا کسی اور خوشبو کو سونگھ کر دیکھیں کہ محسوس ہورہا ہے یا نہیں. اگر سب صحیح ہےتو پھر پریشان مت نہ ہوں، نہ ہی گھر سے نکلیں، گھر میں ہی پیناڈول سے اپنا بخار اتار سکتے ہیں، نزلہ زکام ہو تو اسے چھوڑ دیں یہ خود ہی ٹھیک ہوجائے گا.
*پھر بھی پریشانی ہو تو حکومت کی ہیلپ لائن 1166 پر کال کرکے اپنے حالات سے آگاہ کردیں، وہ آپ کو تسلی دیکر سب سمجھادیں گے.*
*قرنطینہ سینئرز میں بھی مریض کو پہلے کڑوی گولی کھلاکر چیک کیا جارہا ہے کہ زائقہ محسوس ہورہا ہے یا نہیں، ڈاکٹرز کے مطابق بہت سے مریض عام بخار کی وجہ سے خود کو کرونا متاثر سمجھ کر قرنطینہ آگئے تھے جنہیں خیریت سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ مبارک ہو آپ کو کرونا نہیں ہے.*
لیکن خدا کے لیے کرونا سے خوفزدہ ہوکر اپنی جان مت لیں، خودکشی مت کریں، یاد رکھیں زندگی و موت اللہ کے اختیار میں ہے نہ کہ کرونا کے. اس لیے ڈرنا چھوڑ دیں اور اوپر بتائی گئی ہدایات کے مطابق خود کو چیک کرتے رہیں. ہوسکے تو پورے گھر کو چکھنے اور سونگھنے کے تجربے سے گزار کر تسلی کریں کہ سب خیریت سے ہیں یا نہیں. یاد رکھیں اس وقت کرونا کا واحد علاج صرف احتیاط ہے لہذہ خود بھی احتیاط کریں اور گھر والوں کو بھی چیک کرتے رہیں کیونکہ گھر میں ایک فرد بھی کرونا متاثر ہوگا تو اس سے پورا گھر متاثر ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں.
*احتیاط احتیاط اور صرف احتیاط کریں*
*گھر سے ہرگز مت نکلیں*
*صبح و شام سب کی چکھنے اور سونگھنے کی حس کو چیک کرتے رہیں.*
آخر میں یاد رکھیں کرونا اللہ سے بڑا نہیں ہے. اللہ کے حکم کے بغیر نہیں لگ سکتا اور جسے متاثر کرنے کا اللہ فیصلہ فرماچکا ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت کرونا سے نہیں بچاسکتی لہذہ اللہ پر توکل رکھیں اور پرامن زندگی گزارتے رہیں. شکریہ
*نوٹ : چکھنے/سونگھنے کی ٹیکنک قرنطینہ میں ڈیوٹی کرنے والے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتائی ہے.*
کرونا ہے یا عام بیماری، گھر بیٹھے معلوم کرنے کا طریقہ 👇 کرونا ہے یا عام بیماری، گھر بیٹھے معلوم کرنے کا طریقہ 👇 Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 9:55 AM Rating: 5

وہ چند سبق جو ہم نے پچھلے دنوں سیکھے

9:50 AM

وہ چند سبق جو ہم نے پچھلے دنوں سیکھے:
1-زیادہ تر لوگ آسانی کے ساتھ گھر بیٹھ کر کام کر سکتے ہیں.
2-ہم اور ہمارے بچے فاسٹ فوڈ کھائے بنا زندہ رہ سکتے ہیں.
3-معمولی جرم کرنے والوں کو قید سے آزاد کرنا بہتر ہے.
4-ہم محض دنوں میں ہسپتال بنا سکتے ہیں.
5-ہم غریبوں پر کروڑوں روپے خرچ کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں کوئی فیتہ کاٹنے یا تقریب کرنے کی بھی ضرورت نہیں.
6-ہم اپنی چھٹیاں یورپ یا امریکہ جائے بغیر بھی گزار سکتے ہیں.
7-ترقی یافتہ قومیں بھی اسی طرح کمزور ہیں جس طرح کے غریب اقوم، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ کمزور ہیں
8-ہمارا خاندانی نظام اب بھی صحیح سلامت ہے.
9-اگر ہم سمجھ داری سے استعمال کریں تو ہمارے پاس پیسہ بہت ہے.
10-ہم غیر ضروری طور پر پیٹرول کی بڑی مقدار استعمال کرتے ہیں اس کا براہ راست برا اثر ہماری اکانومی پر پڑتا ہے.
11-امیروں کے بچے غریب بچوں سے کہیں زیادہ کمزور ہیں.
12-دولت مند لوگ طاقت ور نہیں بلکہ کھوکھلے ہیں.
13-ہر نئے فیشن ڈیزائنر کی لان خریدنا ضروری نہیں.
14-بیوی کسی بیوٹی پارلر کا ہفتہ وار چکر لگائے بنا بھی اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے.
15-بزرگ کسی بھی خاندان کے لیے ریڑہ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں.
16-میڈیا محض وقت کا زیاں ہے۔
17-سکولوں نے غیر ضروری اور بیکار چیزوں کے لیے ہمارے بچوں پر خواہ مخواہ بوجھ ڈالا ہوا ہے.
وہ چند سبق جو ہم نے پچھلے دنوں سیکھے وہ چند سبق جو ہم نے پچھلے دنوں سیکھے Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 9:50 AM Rating: 5

*ضروری اعلان*

9:46 AM

*ضروری اعلان*

کل سے 29۔03۔2020 ، کسی بھی چیز کے لئے حتی کہ  
 روٹی کے لئے بھی گھر نہ چھوڑیں ، کیوں کہ کورونا وائرس
کے بدترین دور کی شروعات ہو چکی ہے ، کورونا وائرس کی انکیوبیشن کی تاریخ جو کہ 14 دن ہے پوری ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے مثبت کیس نکلنا شروع ہوجائیں گے اور بہت سے لوگوں کا اس سے متاثر ہونے کا امکان ہو گا اگر آپ نے احتیاط نہ کی اور میل جول جاری رکھا تو آپ وائرس کو خود گھر لے کر آئیں گے جس سے آپ کا پورا خاندان متاثر ہونے کا امکان ہے ۔ ، لہذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ گھر میں رہیں ہے اور بہت محتاط رہیں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ 23 مارچ سے 3 اپریل تک ہم خود اپنا خیال رکھیں کیونکہ وائرس نمودار ہو نے کی آخری حد دو ہفتوں کی ہے جو کہ پوری ہو چکی ہے۔ عام طور پر ان دو ہفتوں میں تمام انفیکشن والے مریض میں علامات ظاہر ہوجاتی ہیں اور ان کا علاج ممکن ہے ۔ پھر اگلے دو ہفتوں کے لئے بھی سکون سے رہنا ہوگا اور ان دو ہفتوں میں یہ پھیلنا بھی رک جائے گا ۔ * اٹلی میں کیا ہوا؟ یہ کہ انھوں نے وائرس کا چوٹی کا سیزن نظرانداز کیا تھا اور اسی وجہ سے تمام کیس ایک ساتھ نکلے تھے جن کا ایک ہی وقت میں علاج کرنا ناممکن ہو گیا تھا جس کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ ہو گیا ۔ * آپ سب سے درخواست ہے کہ کسی سے بھی نہیں ملیں ، یہاں تک کہ ایک ہی خاندان کے لوگ بے شک سامنے گھر میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں ان سے بھی نہ ملیں ۔ نہ ہی گھر بلائیں۔ یہ ھم سب کی بھلائی کے لئے ہے۔ * ہم انفیکشن کے میکسم اسٹیج میں جا چکے ہیں ۔ جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے ۔ کیونکہ اگر یہ وقت گزر گیا تو آگے انشاءاللہ جلد ہی وائرس پھیلنا رک جائے گا ۔ اور جن مریضوں میں کو رونا وائرس مثبت آیا ہے ان کا علاج ہو جائے گا ۔
*احتیاط علاج سے بہتر ہے*۔
۔
زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ اس سے متاثر ہونے کا امکان کم ہوجائے ۔
*ضروری اعلان* *ضروری اعلان* Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 9:46 AM Rating: 5

سمندر کے اندر انٹرنیٹ کی کیبل خراب ہونے سے انٹرنیٹ نہیں چل رہا

6:44 PM


ہَم کبھی کبھار یہ سُنتے ہیں کہ سمندر کے اندر انٹرنیٹ کی کیبل خراب ہونے سے انٹرنیٹ نہیں چل پایا یا نہیں چل رہا، کیا کبھی آپ نے سوچا کہ یہ کیسی کیبل ہے..؟ اس کیبل کو کس نے سمندر کے گہرے فرش پہ فکس کیا..؟ یہ کیبل کیسے کام کرتی ہے...؟ اور یہ کیبل کتنی مہنگی ہے...؟
پوری دُنیا کا مواصلاتی نظام انہی تاروں کے ذریعے چل رہا ہے ان کیبلز کو فائبر آپٹک کیبلز کہا جاتا ہے یہ کیبلز سلور یا کاپر کی بجائے اعلیٰ قسم کے شیشے یا پلاسٹک کی بنی ہوئی ہوتی ہیں اس کیبل کے تین لیئرز ہوتے ہیں اس کے سب سے اوپری حصے یعنی ربڑ کی تہہ کو کوَر Cover کہا جاتا ہے درمیانی حفاظتی تہہ کو کاڈلِک Codlick کہا جاتا ہے اور سب سے درمیانی تہہ جو چھوٹی چھوٹی کیبلز پہ مُشتمل ہوتی ہے جو اصل طور پہ کارآمد ہے کو کور Core کہتے ہیں Core میں بہت سی دوسری کیبلز کا سیٹ ہوتا ہے اور ہر کیبل میں سینکڑوں باریک شیشے یا پھر پلاسٹک کے ریشے ہوتے ہیں یہ ریشے زیادہ سے زیادہ انسانی بال جتنا موٹائی رکھتے ہیں۔
یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ اس کائنات کی سب تیز ترین چیز کیا ہے..؟ جی بالکُل روشنی اس کائنات کی تیز ترین چیز جس کی رفتار کم و بیش 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جبکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کُل فاصلہ 12373 کلومیٹر ہے یعنی روشنی کی ایک رے پاکستان سے لیکر امریکہ تک کا سفر ایک سیکنڈ کے لاکھوں حصوں سے بھی پہلے طے کر لیتی ہے ۔
ہمارا موضوع روشنی نہیں ہمارا موضوع فائبر آپٹک کیبل ہی ہے لیکن میں آپ کو بتانا یہ چاہ رہی ہوں کہ ایک فائبر آپٹک کیبل دراصل کام کیسے کرتی اور یہ اتنی تیز ڈیٹا کیسے ٹرانسفر کرتی ہے فرض کریں میں اپنے کمپیوٹر پہ یہی تحریر پوسٹ کر رہی ہوں جونہی میں پوسٹ کروں گی یہ دُنیا میں جہاں جہاں بھی پیج لائک ہے سب کو نظر آنے لگے گی یہ کیسے مُمکن ہوا...؟
جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چُکی ہوں کہ ایک فائبر آپٹک کیبل کسی سلور یا کاپر وغیرہ کی تار نہیں ہوتی اس میں موجود ہزاروں ریشے اعلیٰ قسم کے شیشے اور پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں اور یہی ہمارے ڈیٹا کی رسائی کا سب سے تیز ذریعہ بنتے ہیں۔
میں نے جونہی اپنی پوسٹ شیئر کی میرا یہ ڈیٹا ایک خاص ٹرانسمیٹر کی مدد سے پہلے روشنی میں کنورٹ ہوگا پھر یہ فائبر آپٹک کیبل میں داخل ہوگا جونہی یہ ڈیٹا اس کیبل میں داخل ہوگا یہ روشنی کی رفتار کے جتنا ہی رفتار سے سفر کرے گا اس کیبل کے ایک ریشے میں سے ہزاروں قسم کے ڈیٹا بیک وقت سفر کر سکتے ہیں۔
فائبر آپٹک کیبل کی تین اقسام ہیں
1: 288 Count Fiber
یہ دُنیا کی سب سے مہنگی قسم ہے جس کی قیمت تقریباً 5.87$ /فٹ ہے
2: 144 Count Fiber
قیمت 2.98$/ فٹ
3: 24 Count Fiber
قیمت 0.68$/فٹ ہے...
اس کیبل کو سمندروں کی گہری تہوں میں بھی بچھایا جاتا ہے اور زیر زمین بھی زمیں میں مُختلف مشینری کے ذریعے گڑھا کھود کر دبا دیا جاتا ہے جبکہ سَمندروں میں اسے بچھانے کے لیئے ایک شِپ کی ضرورت پڑتی ہے جس پہ ایک بہت بڑا فیتہ نصب ہوتا ہے جہاں فائبر آپٹک کیبل لپیٹی ہوئی ہوتی ہے ۔ پھر ایک کیبل لیور جس کو شپ سے باندھ کر سمندر میں گرایا جاتا ہے یہ اوپر کیبل کے فیتہ سے کیبل کھینچتا ہے اور سمندر کے فرش پہ ایک خاص ترتیب سے بچھاتا آتا ہےجوں جوں شپ آگے چلتا جاتا ہے یہ لیور کیبل بچھاتا چلا آتا ہے ۔
یہ صرف اور صرف ہموار سمندری فرش پہ ہی قابل استعمال ہوتا ہے زیرِ سمندر پہاڑی چٹانوں پہ کیبل بچھانے کے لیئے ایک اور برقی آلے کا استعمال کیا جاتا ہے جو پانی میں تیرتے ہوئے کیبل کو بچھاتا ہے
یہ فائبر آپٹک کیبلز ہی پوری دُنیا کو آپس میں جوڑنے کا سب سے بڑا ذریعہ کہلاتی ہیں
دُنیا کے تمام مُمالک ایک دوسرے کا مواصلاتی نظام انہی فائبر آپٹک کیبلز ذریعے وصول کرتے ہیں
31 اکتوبر 1926 کو پیدا ہونے والے انڈین نژاد امریکی شہری نریندر سِنگھ کَپانے فائبر آپٹک کیبل کا موجد ہے.
سمندر کے اندر انٹرنیٹ کی کیبل خراب ہونے سے انٹرنیٹ نہیں چل رہا  سمندر کے اندر انٹرنیٹ کی کیبل خراب ہونے سے انٹرنیٹ نہیں چل رہا Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 6:44 PM Rating: 5

آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ

7:32 AM


انسانی عادتوں کے ماہرین نے ڈیٹا کی بنیاد پر ریسرچ کی ہے اور معلوم ہوا دنیا میں 99 فیصد غلط فیصلے دن دو بجے سے چار بجے کے درمیان ہوتے ہیں‘ یہ ڈیٹا جب مزید کھنگالا گیا تو پتا چلا دنیا میں سب سے زیادہ غلط فیصلے دن دو بج کر 50 منٹ سے تین بجے کے درمیان کیے جاتے ہیں۔
یہ ایک حیران کن ریسرچ تھی‘ اس ریسرچ نے ”ڈسین میکنگ“ (قوت فیصلہ) کی تمام تھیوریز کو ہلا کر رکھ دیا‘ ماہرین جب وجوہات کی گہرائی میں اترے تو پتا چلا ہم انسان سات گھنٹوں سے زیادہ ایکٹو نہیں رہ سکتے‘ ہمارے دماغ کو سات گھنٹے بعد فون کی بیٹری کی طرح ”ری چارجنگ“ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اگر اسے ری چارج نہیں کرتے تو یہ غلط فیصلوں کے ذریعے ہمیں تباہ کر دیتا ہے‘ ماہرین نے ڈیٹا کا مزید تجزیہ کیا تو معلوم ہوا ہم لوگ اگر صبح سات بجے جاگیں تو دن کے دو بجے سات گھنٹے ہو جاتے ہیں۔
ہمارا دماغ اس کے بعد آہستہ آہستہ سن ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہم غلط فیصلوں کی لائین لگا دیتے ہیں چناں چہ ہم اگر بہتر فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد فیصلے بند کر دینے چاہئیں اور آدھا گھنٹہ قیلولہ کرنا چاہیے‘ نیند کے یہ30 منٹ ہمارے دماغ کی بیٹریاں چارج کر دیں گے اور ہم اچھے فیصلوں کے قابل ہو جائیں گے‘ یہ ریسرچ شروع میں امریکی صدر‘ کابینہ کے ارکان‘ سلامتی کے بڑے اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ شیئر کی گئی۔
یہ اپنے فیصلوں کی روٹین تبدیل کرتے رہے‘ ماہرین نتائج نوٹ کرتے رہے اور یہ تھیوری سچ ثابت ہوتی چلی گئی‘ ماہرین نے اس کے بعد ”ورکنگ آوورز“ کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا‘آفس کے پہلے تین گھنٹے فیصلوں کے لیے بہترین قرار دے دیے گئے‘ دوسرے تین گھنٹے فیصلوں پر عمل کے لیے وقف کر دیے گئے اور آخری گھنٹے فائل ورک‘ کلوزنگ اوراکاؤنٹس وغیرہ کے لیے مختص کر دیئے گئے‘ سی آئی اے نے بھی اس تھیوری کو اپنے سسٹم کا حصہ بنا لیا۔
جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک بار کہا تھا‘ امریکی ہم سے جب بھی کوئی حساس میٹنگ کرتے تھے تو یہ رات کے دوسرے پہر کا تعین کرتے تھے‘ میں نے محسوس کیا یہ میٹنگ سے پہلے ہمارے تھکنے کا انتظار کرتے ہیں چناں چہ ہم ملاقات سے پہلے نیند پوری کر کے ان کے پاس جاتے تھے۔ فقیر سے اگر پوچھا جائے ”تم لوگ مانگنے کے لیے صبح کیوں آتے ہو اور شام کے وقت کیوں غائب ہو جاتے ہو“ فقیر کا جواب ”لوگ بارہ بجے تک سخی ہوتے ہیں اور شام کو کنجوس ہو جاتے ہیں‘ ہمیں صبح زیادہ بھیک ملتی ہے“ ۔
مجھے پہلے یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی لیکن میں نے جب دو بجے کی ریسرچ پڑھی تو مجھے فقیر کی بات سمجھ آ گئی‘ آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا آج سے پچاس سال پہلے لوگ زیادہ خوش ہوتے تھے‘ یہ شامیں خاندان کے ساتھ گزارتے تھے‘ سپورٹس بھی کرتے تھے اور فلمیں بھی دیکھتے تھے‘کیوں؟ کیوں کہ پوری دنیا میں اس وقت قیلولہ کیا جاتا تھا‘ لوگ دوپہر کو سستاتے تھے مگر انسان نے جب موسم کو کنٹرول کر لیا‘ یہ سردی کو گرمی اور گرمی کو سردی میں تبدیل کرنے میں کام یاب ہو گیا تو اس نے قیلولہ بند کر دیا چناں چہ لوگوں میں خوشی کا مادہ بھی کم ہو گیا اور ان کی قوت فیصلہ کی ہیت بھی بدل گئی۔
ریسرچ نے ثابت کیا ہم اگر صبح سات بجے اٹھتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد ہلکی نیند کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اگر دو سے تین بجے کے دوران تھوڑا سا سستا لیں‘ ہم اگر نیند لے لیں تو ہم فریش ہو جاتے ہیں اور ہم پہلے سے زیادہ کام کر سکتے ہیں‘ پوری دنیا میں فجر کے وقت کو تخلیقی لحاظ سے شان دارسمجھا جاتا ہے‘ کیوں؟ ہم نے کبھی غور کیا‘ اس کی دو وجوہات ہیں‘ ہم بھرپور نیند لے چکے ہوتے ہیں لہٰذا ہمارے دماغ کی تمام بیٹریاں چارج ہو چکی ہوتی ہیں اور دوسرا فجر کے وقت فضا میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور آکسیجن ہمارے دماغ کے لیے اکسیر کاد رجہ رکھتی ہے۔
یہ ذہن کی مرغن غذا ہے چناں چہ ماہرین کا دعویٰ ہے آپ اگر بڑے فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو آپ یہ کام صبح بارہ بجے سے پہلے نمٹا لیں اور آپ کوشش کریں آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ یہ فیصلہ غلط ہو گا اور آپ کو اس کا نقصان ہو گا...
آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ  آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 7:32 AM Rating: 5

اپنے جسم کے اعضاء کا خیال رکھئے اور ان کو خوفزدہ مت کیجیئے

7:42 PM

1۔معدہ(Stomach): اس وقت ڈرا ہوتا ہے جب آپ صبح کا ناشتہ نہیں کرتے      ۔

2۔گردے(Kidneys)      اس وقت خوفزدہ ہوتے ہیں جب آپ 24 گھنٹے میں 10 گلاس پانی نہیں پیتے۔

3۔پتہ( Gall bladder )     اس وقت پریشان ہوتا ہے جب آپ رات 11بجے تک سوتے نہیں اور سورج طلوع سے پہلے جاگتے نہیں ہیں

۔4۔چھوٹی آنت(small intestines )     اس وقت تکلیف محسوس کرتی ہے جب آپ ٹھنڈے مشروبات پیتے ہیں اور باسی کھانا کھاتے ہیں۔

5۔بڑی آنت(Large intestine) اس وقت خوفزدہ ہوتی ہے جب زیادہ تلی ہوئی یا مصالحہ دار چیز کھاتے ہیں

6۔پھیپھڑے ( Lungs ) اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں جب آپ دھواں دھول سگریٹ بیڑی سے آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں ۔

7۔جگر(Liver) اس وقت خوفزدہ ہوتا ہے جب آپ بھاری تلی ہوئی خوراک اور فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں ۔8۔دل(Heart ) اس وقت بہت تکلیف
 
محسوس کرتا ہے جب آپ زیادہ نمکین اور کولیسٹرول والی غذا کھاتے ہیں

9۔لبلبہ(Pancreas )لبلبہ اس وقت بہت ڈرتا ہے جب آپ کثرت سے مٹھائی کھاتے ہیں اور خاص کر جب وہ فری دستیاب ہو۔

10۔آنکھیں(Eyes )اس وقت تنگ آ جاتی ہیں جب اندھیرے میں موبائل اور کمپیوٹر پر ان کی تیز روشنی میں کام کرتے ہیں ۔

11۔دماغ(Brain ) اس وقت بہت دکھی ہوتا ہے جب آپ منفی negative سوچتے ہیں ۔

اپنے جسم کے اعضاء کا خیال رکھئے اور ان کو خوفزدہ مت کیجیئے۔ یاد رکھئے یہ اعضاء مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں ۔

اپنے جسم کے اعضاء کا خیال رکھئے اور ان کو خوفزدہ مت کیجیئے اپنے جسم کے اعضاء کا خیال رکھئے اور ان کو خوفزدہ مت کیجیئے Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 7:42 PM Rating: 5
Theme images by lucato. Powered by Blogger.