Na Mehram

11:37 PM
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﺭﯾﮑﻮﺋﺴﭧ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔۔
مجھے بھی واٹس ایپ پر میسج اتے ہیں۔
مجھ سے پوچھا جاتا ہے جب بات نہیں کرنی تو نمبر کیوں دے رکھا ہے؟
مجھ سے یہ بھی کہا جاتا ہے چیٹ نہیں کرتی تو فیس بک کیوں بنائی؟
ﭘﺎﭘﻮﻟﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﺴﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ۔۔؟؟
ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔۔
ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔۔
اللہ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﭨﯿﻠﯿﻨﭧ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺑﮭﯽ اللہ ﮐﯽ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ۔۔۔
ﻣﯿﮟ کوشش کرتی ہوں دین کے رستے پر چلوں ﺍﻟﺤﻤﺪ للہ
*ﻟﯿﮑﻦ .......*
ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮی ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ فتنہ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟؟
ﭼﻠﯿﮯ ﻣﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻘﻮٰﯼ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﻡ ﺩبا ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﮯ۔۔ ﭘﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻋﻠﻢ؟؟
ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ، ﺑﮩﻦ، ﻣﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﮯ، ﺭﻭﺯ ﺑﺪ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ اللہ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ؟؟
*ﻟﯿﮑﻦ !!*
ﻣﯿﮟ ﻧﺎ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ ﻣﺤﺎﻓﻞ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔۔
ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺯﺩ ﻋﺎﻡ ﻗﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺳﭩﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺳﯿﭗ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﻣﻮﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ اور ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺎﻥ ﮨﻮﮞ۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ہونے والے ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮨﻮﮞ۔۔
تو پھر یہ طے ہوا کہ
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ۔۔
*ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﻧﺎ۔۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍللہ ﺳﮯ ﮈﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔۔ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ اللہ ﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ !!*
اللہ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ صحيح ﺩﯾﻦ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ ۔۔۔ﺁﻣﯿﻦ
Na Mehram Na Mehram Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 11:37 PM Rating: 5

Jinhen Apni Tareekh Hi Yaad Nah Ho ..!


جنہیں اپنی تاریخ ھی یاد نہ ہو.!
یہ 1957ء كی بات ہے- بیسویں صدی کا مشہور مؤرخ ٹائن بی پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا- یہ تاریخ کے بارے میں کوئی سیمینار تھا- تقریب کے اختتام پر پاکستان کے ایک نامور مصنف اور سرکاری ملازم ڈائری لے کر آگے بڑھے اور آٹوگراف كی كی درخواست كی- ٹائن بی نے قابو پکڑا، دستخط کئے، نظریں اٹھائیں اور بیوروکریٹ كی طرف دیکھ کر بولے:
"میں ہجری تاریخ لکھنا چاہتا ہوں، کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ آج ہجری تاریخ کیا ہے؟"
سرکاری ملازم نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں-
ٹائن بی نے ہجری تاریخ لکھی، تھوڑا سا مسکرایا اور اس كی طرف دیکھ کر کہا:
"تھوڑی دیر پہلے یہاں اسلام کے مستقبل کے بارے میں بڑے زور شور سے تقریریں ہورہی تھیں- وہ لوگ تاریخ کیسے بناسکتے ہیں جنہیں اپنی تاریخ بھی یاد نہ ہو- تاریخ باتیں کرنے سے نہیں، عمل سے بنتی ہے-"
سرکاری ملازم نے شرمندگی سے سر جھکا لیا-


Jinhen Apni Tareekh Hi Yaad Nah Ho ..! Jinhen Apni Tareekh Hi Yaad Nah Ho ..! Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 8:39 AM Rating: 5

Badshah Ka Mood Acha Tha' Woh Nojawan Wazeer Ki Taraf Mura


بادشاہ کا موڈ اچھا تھا‘ وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“ وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“ وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“
وزیر خاموش ہو گیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“ وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“ بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا حکم دیا‘ بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘ دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘ وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘ بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا اور تمہیں آدھی سلطنت مل جائے گی اور اگر تم ناکام ہو گئے تو پہلا حکم خارج سمجھا جائے گا اور دوسرے حکم کے مطابق تمہارا سر اتار دیا جائے گا“ وزیر کی حیرت پریشانی میں بدل گئی‘ بادشاہ نے اس کے بعد فرمایا ”میرے تین سوال لکھ لو“ وزیر نے لکھنا شروع کر دیا‘ بادشاہ نے کہا ”انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟“ وہ رکا اور بولا ”دوسرا سوال‘ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے“ وہ رکا اور پھر بولا ”تیسرا سوال‘ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے“ بادشاہ نے اس کے بعد نقارے پر چوٹ لگوائی اور بآواز بلند فرمایا ”تمہارا وقت شروع ہوتا ہے اب“۔
وزیر نے دونوں پروانے اٹھائے اور دربار سے دوڑ لگا دی‘اس نے اس شام ملک بھر کے دانشور‘ ادیب‘ مفکر اور ذہین لوگ جمع کئے اور سوال ان کے سامنے رکھ دیئے‘ ملک بھر کے دانشور ساری رات بحث کرتے رہے لیکن وہ پہلے سوال پر ہی کوئی کانسینسس ڈویلپ نہ کر سکے‘ وزیر نے دوسرے دن دانشور بڑھا دیئے لیکن نتیجہ وہی نکلا‘ وہ آنے والے دنوں میں لوگ بڑھاتا رہا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر دارالحکومت سے باہر نکل گیا‘
وہ سوال اٹھا کر پورے ملک میں پھرا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا‘ وہ مارا مارا پھرتا رہا‘ شہر شہر‘ گاﺅں گاﺅں کی خاک چھانتا رہا‘ شاہی لباس پھٹ گیا‘ پگڑی ڈھیلی ہو کر گردن میں لٹک گئی‘ جوتے پھٹ گئے اور پاﺅں میں چھالے پڑ گئے‘ یہاں تک کہ شرط کا آخری دن آ گیا‘ اگلے دن اس نے دربار میں پیش ہونا تھا‘ وزیر کو یقین تھا یہ اس کی زندگی کا آخری دن ہے‘ کل اس کی گردن کاٹ دی جائے گی اور جسم شہر کے مرکزی پُل پر لٹکا دیا جائے گا‘
وہ مایوسی کے عالم میں دارالحکومت کی کچی آبادی میں پہنچ گیا‘ آبادی کے سرے پر ایک فقیر کی جھونپڑی تھی‘ وہ گرتا پڑتا اس کٹیا تک پہنچ گیا‘ فقیر سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھا رہا تھا‘ ساتھ ہی دودھ کا پیالہ پڑا تھا اور فقیر کا کتا شڑاپ شڑاپ کی آوازوں کے ساتھ دودھ پی رہا تھا‘ فقیر نے وزیر کی حالت دیکھی‘ قہقہہ لگایا اور بولا ”جناب عالی! آپ صحیح جگہ پہنچے ہیں‘ آپ کے تینوں سوالوں کے جواب میرے پاس ہیں“
وزیر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ”آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا‘ میں کون ہوں اور میرا مسئلہ کیا ہے“ فقیر نے سوکھی روٹی کے ٹکڑے چھابے میں رکھے‘ مسکرایا‘ اپنا بوریا اٹھایا اور وزیر سے کہا ”یہ دیکھئے‘ آپ کو بات سمجھ آ جائے گی“ وزیر نے جھک کر دیکھا‘ بوریئے کے نیچے شاہی خلعت بچھی تھی‘ یہ وہ لباس تھا جو بادشاہ اپنے قریب ترین وزراءکو عنایت کرتا تھا‘ فقیر نے کہا ”جناب عالی میں بھی اس سلطنت کا وزیر ہوتا تھا‘ میں نے بھی ایک بار آپ کی طرح بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کر لی تھی‘نتیجہ آپ خود دیکھ لیجئے“
فقیر نے اس کے بعد سوکھی روٹی کا ٹکڑا اٹھایا اور دوبارہ پانی میں ڈبو کر کھانے لگا‘ وزیر نے دکھی دل سے پوچھا ”کیا آپ بھی جواب تلاش نہیں کر سکے تھے“ فقیر نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ”میرا کیس آپ سے مختلف تھا‘ میں نے جواب ڈھونڈ لئے تھے‘ میں نے بادشاہ کو جواب بتائے‘ آدھی سلطنت کا پروانہ پھاڑا‘ بادشاہ کو سلام کیا اور اس کٹیا میں آ کر بیٹھ گیا‘ میں اور میرا کتا دونوں مطمئن زندگی گزار رہے ہیں“ وزیر کی حیرت بڑھ گئی لیکن یہ سابق وزیر کی حماقت کے تجزیئے کا وقت نہیں تھا‘
جواب معلوم کرنے کی گھڑی تھی چنانچہ وزیر اینکر پرسن بننے کی بجائے فریادی بن گیا اور اس نے فقیر سے پوچھا ”کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں“ فقیر نے ہاں میں گردن ہلا کر جواب دیا ”میں پہلے دو سوالوں کا جواب مفت دوں گا لیکن تیسرے جواب کےلئے تمہیں قیمت ادا کرنا ہو گی“ وزیر کے پاس شرط ماننے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا‘ اس نے فوراً ہاں میں گردن ہلا دی‘فقیر بولا ”دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے‘ انسان کوئی بھی ہو‘ کچھ بھی ہو‘ وہ اس سچائی سے نہیں بچ سکتا“
وہ رکا اور بولا ”انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے‘ ہم میں سے ہر شخص زندگی کو دائمی سمجھ کر اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے“ فقیر کے دونوں جواب ناقابل تردید تھے‘ وزیر سرشار ہو گیا‘ اس نے اب تیسرے جواب کےلئے فقیر سے شرط پوچھی‘ فقیر نے قہقہہ لگایا‘ کتے کے سامنے سے دودھ کا پیالہ اٹھایا‘ وزیر کے ہاتھ میں دیا اور کہا ”میں آپ کو تیسرے سوال کا جواب اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک آپ یہ دودھ نہیں پیتے“ وزیر کے ماتھے پر پسینہ آ گیا ‘اس نے نفرت سے پیالہ زمین پر رکھ دیا‘ وہ کسی قیمت پر کتے کا جوٹھا دودھ نہیں پینا چاہتا تھا‘ فقیر نے کندھے اچکائے اور کہا ”اوکے تمہارے پاس اب دو راستے ہیں‘ تم انکار کر دو اور شاہی جلاد کل تمہارا سر اتار دے یا پھر تم یہ آدھ پاﺅ دودھ پی جاﺅ اور تمہاری جان بھی بچ جائے اور تم آدھی سلطنت کے مالک بھی بن جاﺅ‘ فیصلہ بہرحال تم نے کرنا ہے“ وزیر مخمصے میں پھنس گیا‘ ایک طرف زندگی اور آدھی سلطنت تھی اور دوسری طرف کتے کا جوٹھا دودھ تھا‘ وہ سوچتا رہا‘
سوچتا رہا یہاں تک کہ جان اور مال جیت گیا اور سیلف ریسپیکٹ ہار گئی‘ وزیر نے پیالہ اٹھایا اور ایک ہی سانس میں دودھ پی گیا‘ فقیر نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میرے بچے‘ انسان کی سب سے بڑی کمزوری غرض ہوتی ہے‘ یہ اسے کتے کا جوٹھا دودھ تک پینے پر مجبور کر دیتی ہے اور یہ وہ سچ ہے جس نے مجھے سلطنت کا پروانہ پھاڑ کر اس کٹیا میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا‘ میں جان گیا تھا‘ میں جوں جوں زندگی کے دھوکے میں آﺅں گا‘میں موت کی سچائی کو فراموش کرتا جاﺅں گا اور میں موت کو جتنا فراموش کرتا رہوں گا‘ میں اتنا ہی غرض کی دلدل میں دھنستا جاﺅں گا اور مجھے روز اس دلدل میں سانس لینے کےلئے غرض کا غلیظ دودھ پینا پڑے گا لہٰذا میرا مشورہ ہے‘ زندگی کی ان تینوں حقیقتوں کو جان لو‘ تمہاری زندگی اچھی گزرے گی“ وزیر خجالت‘ شرمندگی اور خودترسی کا تحفہ لے کر فقیر کی کٹیا سے نکلا اور محل کی طرف چل پڑا‘ وہ جوں جوں محل کے قریب پہنچ رہا تھا اس کے احساس شرمندگی میں اضافہ ہو رہا تھا‘ اس کے اندر ذلت کا احساس بڑھ رہا تھا‘ وہ اس احساس کے ساتھ محل کے دروازے پر پہنچا‘
اس کے سینے میں خوفناک ٹیس اٹھی‘ وہ گھوڑے سے گرا‘ لمبی ہچکی لی اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ہمیں کسی دن کسی ٹھنڈی جگہ پر بیٹھ کر زندگی کے ان بنیادی سوالوں پر ضرور غور کرناچاہیے‘ ہمیں یہ سوچنا چاہیے ہم لوگ کہیں زندگی کے دھوکے میں آ کر غرض کے پیچھے تو نہیں بھاگ رہے‘ ہم لوگ کہیں موت کو فراموش تو نہیں کر بیٹھے‘ ہم کہیں اس کہانی کے وزیر تو نہیں بن گئے ‘ مجھے یقین ہے ہم لوگوں نے جس دن یہ سوچ لیا اس دن ہم غرض کے ان غلیظ پیالوں سے بالاتر ہو جائیں گے۔
Badshah Ka Mood Acha Tha' Woh Nojawan Wazeer Ki Taraf Mura Badshah Ka Mood Acha Tha' Woh Nojawan Wazeer Ki Taraf Mura Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 8:20 AM Rating: 5
Theme images by lucato. Powered by Blogger.