بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے


بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں کیوں
پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی
*صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں*
زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے دن کے ایک بجے سرمٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھاجس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظلِ الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار ماہ جبینیں چہرہ، پائوں اور شاہی ناک صاف کر رہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے،، ! اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،
اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں
برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا
لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے
اب 2018ء میں آتے ہیں پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اورسنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !
آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے
اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا
بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے ! حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔۔ اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی او کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟ کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اورکوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے ، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،، کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.
جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی.
اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاھک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے.
وطن عزیز کی بقاء اور ترقی کیخاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب میں ضرور شیئر کریں۔ جزاک اللہ
*اسلامک ہسٹری*
بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 8:07 AM Rating: 5

دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا


#دجال

دجال #یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا. دونوں پاؤں ٹیڑھے ہوں گے ۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی۔ رنگ سرخ یا گندمی ہو گا۔ سر کے بال حبشیوں کی طرح ہوں گے۔ ناک چونچ کی طرح ہو گی۔ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا۔ دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر ک، ا، ف، ر لکھا ہو گا جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا۔

اس کی آنکھ سوئی ہوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا۔ شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔
اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا. ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا۔

دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہو گا۔ اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہو ں گی۔ زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے۔
جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گا، دجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے اور درختوں پر پھل آجائیں گے۔

کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماؤں اور باپوں کو زندہ کر دوں تو تم کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے۔۔؟
لوگ اثبات میں جواب دیں گے۔
اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماؤں اور باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے۔ نتیجتاً بہت سے افراد ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

اس کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بادلوں کی طرح رواں ہو گی۔ وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا۔
تمام دشمنانِ اسلام اور دنیا بھر کے یہودی، امت مسلمہ کے بغض میں اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں گے۔ وہ مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہرہ داری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا۔ اس لئے نامراد وذلیل ہو کر واپس مدینہ منورہ کا رخ کرے گا۔

اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔
انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا۔ جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے۔ باہر نکلتے ہیں دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا۔

آخر ایک بزرگ اس سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اور خاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے۔ لوگوں کو اس کی باتیں شاق گزریں گی۔ لہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال (نعوذ بااللہ) کی اجازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے.

چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا. جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا : "میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی۔"
دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گا اوراس کو قتل کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ درباری فوراً اس بزرگ کے دو ٹکڑے کر دیں گے۔

دجال اپنے حواریوں سے کہے گا کہ اب اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم کو میری خدائی کا پختہ یقین ہو جائے گا۔ یہ دجالی گروپ کہے گا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کو خدا مانتے ہوئے آرہے ہیں، البتہ اس معجزہ سے ہمارے یقین میں اور اضافہ ہو جائے گا ۔

دجال اس بزرگ کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے کی کوشش کرے گا ادھر وہ بزرگ بوجہ حکم الہی کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے اب تو مجھے اور زیادہ یقین آ گیا ہے کہ تو ہی دجال ملعون ہے۔
وہ جھنجھلا کر دوبارہ انہیں ذبح کرنا چاہے گا لیکن اب اسکی قوت سلب کر لی جائے گی۔
دجال شرمندہ ہوکر انہیں اپنی جہنم میں جھونک دے گا لیکن یہ آگ ان کے لئے ٹھنڈی اور گلزار بن جائے گی۔

۔اس کے بعد وہ شام کا رخ کرے گا۔ لیکن دمشق پہنچنے سے پہلے ہی حضرت امام مہدی علیہ السلام وہاں آچکے ہوں گے۔

دجال دنیا میں صرف چالیس دن رہے گا۔ ایک دن ایک سال دوسرا دن ایک مہینہ اور تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہوگا۔ بقیہ معمول کے مطابق ہوں گے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام دمشق پہنچتے ہی زور وشور سے جنگ کی تیاری شروع کردیں گے لیکن صورتِ حال بظاہر دجال کے حق میں ہوگی۔ کیونکہ وہ اپنے مادی و افرادی طاقت کے بل پر پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہو گا۔ اس لئے عسکری طاقت کے اعتبار سے تو اس کی شکست بظاہر مشکل نظر آ رہی ہو گی مگر اللہ کی تائید اور نصرت کا سب کو یقین ہو گا ۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام اور تمام مسلمان اسی امید کے ساتھ دمشق میں دجال کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں ہوں گے۔
تمام مسلمان نمازوں کی ادائیگی دمشق کی قدیم شہرہ آفاق مسجد میں جامع اموی میں ادا کرتے ہوں گے۔
ملی شیرازہ ،لشکر کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف صف بندی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت امام مہدی علیہ السلام دمشق میں اس کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔ اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کواٹر ہو گا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام ایک دن نماز پڑھانے کے لئے مصلے کی طرف بڑھیں گے تو عین اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزو ل ہوگا۔

نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے۔ دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر اس کو قتل کر دیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر و ہجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں گے۔

پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گے۔
خنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور اس کے بعد مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔

(مسلم، ابن ماجہ، ابوداود، ترمذی، طبرانی، حاکم، احمد)

اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کا ایمان سلامت رکھے۔
آمین ثم آمین یارب العالمین

(یاد رہے کہ فتنہ دجال سے آگاہی تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے جبکہ آج یہ سنت مٹ چکی ہے.

لہٰذا اس سنت کوزندہ کرتے ہوئے اس پوسٹ کو بار بار پڑھیںِ اوردوسروں تک پہنچائیں۔“



دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 4:56 AM Rating: 5

(Manikara Zapota) چیکو



چیکو (Manikara Zapota)

چیکو کا نباتاتی نام manilkara zapota ھے ۔ اسے انگریزی میں sapodilla کہتے ہیں ۔ اس کا چھلکا آلو کی طرح ھوتا ھے ۔
اس میں دو سے لے کر 4 تک کالے بیج ھوتے ہیں ۔ یہ گول یا بیضوی، یعنی ایک طرف سے نوکدار شکل میں ھوتے ہیں ۔ چیکو کا درخت سال میں دو مرتبہ پھل دیتا ھے۔ اس کا ذائقہ میٹھا اور لذیذ ھوتا ھے - جب کہ شکل اس کی تصویر میں ملاخظہ فرمائیں ۔چیکو کا ایک درخت سال میں دو ہزار پھل دیتا ھے ۔
قانون مفرد اعضاء کے مطابق اس کا مزاج غدی اعصابی اور بعض اطباء نے اعصابی غدی کها هے -
اگر یہ کچا ھوتا ھے - تو اس کا ذائقہ کسیلا ھوتا ھے -
جو کہ عضلاتی اعصابی هوتا هے - جب کہ مکمل پکے ھوئے چیکو میٹھے ھوتے ہیں ۔ چیکو غذائی ریشے سے بھرپور ھوتے ہیں ۔ ایک سو گرام چیکو میں 5.6 گرام ریشے ھوتے ہیں ۔ چیکو میں وٹامنز مثلاً فولیٹ (folate) اور نیاسین معدنیات مثلاً پوٹاشیم (potassium)، جست، فولاد اور صحت بخش غیر تکسیدی اجزاء شامل ھوتے ہیں ۔ چیکو میں وٹامن سی (vitamin C) کی بڑی مقدار ھوتی ھے - جب کہ وٹامن اے (vitamin A) بھی اس میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ھے ۔

چیکو نامیاتی اجزاء کے ساتھ مکمل غذا ھے -
جو صحت کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی بہترین ھے ۔
اس میں کولیسٹرول اور سوڈیم (Cholesterol And Sodium) بہت کم ھوتے ہیں ۔
اس کے استعمال سے وزن میں کمی ھوتی ھے ۔
چیکو دسمبر سے لے کر مارچ تک آسانی سے دستیاب ھوتے ہیں - جب کہ اس کے عروج کا موسم فروری سے اپریل اکتوبر اور دسمبر کا ھوتا ھے -

چیکو کے چند قیمتی فوائد :-
کیونکہ اس میں کیلشیم - آئرن اور فاسفورس کی اضافی مقدار پائی جاتی ھے -
ماہرین کی جانب سے چیکو نظر میں بہتری کے لیے انتہائی مفید قرار دیا گیا ھے - کیونکہ اس میں وٹامن اے موجود ھے - چیکو جسم کو بھرپور توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ھے - کیونکہ اس میں گلوکوز کی بھاری مقدار موجود ھوتی ھے - ایتھلیٹ کو چیکو کا استعمال ضرور کرنا چاہیے -
عمل انہضام کے نظام میں بہتری لاتا ھے -
ساتھ ہی ہر قسم کے درد سوزش کو کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ھوتا ھے -

چیکو میں پایا جانے والے غذائی اجزا اور غذائی ریشہ بہت سے اقسام کے کینسر سے محفوظ رکھتا ھے -

ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرتا ھے -

اس پھل کے کھانے سے اعصاب پرسکون ھو جاتے ہیں - اور دباؤ کا خاتمہ ھو جاتا ھے - جس کے باعث ذہنی سکون حاصل ھوتا ھے -
چیکو قبض کے مرض سے بھی نجات دلاتا ھے -
اور ساتھ دیگر انفیکشن سے بھی محفوظ رکھتا ھےن-
چیکو خون کو روکنے کی خصوصیات بھی رکھتا ھے -
اور اس کا استعمال بواسیر اور زخموں سے رسنے والے خون میں کمی لانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں -

چیکو سے نکلنے والے بیج کا اگر پیسٹ بنا کر کیڑے کے کاٹے کی جگہ پر لگایا جائے تو آرام ملتا ھے -

چیکو انسانی جسم میں داخل ھونے والے متعدد جراثیموں سے بھی محفوظ رکھتا ھے - اور اس میں پایا جانے والا وٹامن سی پوٹاشیم - فولیٹ اور فاسفورس کے آزاد زرات کو خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ھے -

یہ پھل اسہال کے مرض کے لیے بھی انتہائی مفید ھے -اور اس سے پیچش کے خاتمے کے لیے بھی کافی مدد ملتی ھے -

احتیاطی تدابیر :-
چیکو گردے اور مثانے کی پتھری کی خارج کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ھے - اور گردوں کے دیگر بیماریوں سے بھی تحفظ فراہم کرتا ھے -

یہ پھل وزن میں کمی لاتا ھے - جس کے باعث انسان موٹاپے کا شکار ھونے سے بچ جاتا ھے -

چیکو میں پایا جانے والا میگنیشیم خون اور خون کی نسوں کے لیے انتہائی مفید ھے - جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ھوتا ھے -
زمین پر لگے یه قدرت کے انمول تحفے انسان کی پیدائش سے قبل هی رب العالمین نے زمین پر اگا دئے تھے -
هم ان سے مستفید هونے کے بجاۓ اپنی هی مثنوعی اشیاء اور زبان کے چٹخاروں گم پیزا. برگر. پکوڑے کھا کھا کر خود پکوڑا بن گئے ہیں - کاش هم سمجھ سکیں.

چیکو سے بہترین فوائد تب ہی حاصل ھو سکتے ہیں -
جب اسے پکا ھوا کھایا جائے - کچا پھل کھانا انتہائی نقصان دہ ثابت ھو سکتا ھے - کچا چیکو کھانے سے منہ کا السر٬ گلے میں کجھلی کا احساس اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ھو سکتا ھے
(Manikara Zapota) چیکو (Manikara Zapota) چیکو Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 7:50 AM Rating: 5

بلیک پینتھر (لیوپارڈ) ۔۔۔۔۔ کالاچیتا


بلیک پینتھر (لیوپارڈ) ۔۔۔۔۔ کالاچیتا
تیندوے اور جیگوار سے ملتی جلتی ایک نسل سے تعلق رکھنے والامنفرد جانور ہے جسے دنیا بھر میں سب سے خطرناک مانا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سے سب پہلے 1788ء میں اس جانور کو دیکھا گیا اور بعد ازاں 400سے زائد افراد نے اسکو دیکھنے کی شہادتیں ریکارڈ کروائیں ۔ بلیک پینتھر یا کالا چیتا تیزی سے معدوم ہونیوالاجانور ہے ۔ یہ جانور ایشیاء ، ایشاء کوچک اور افریقہ کے کئی حصوں میں پایا جاتا ہے ۔ امریکہ اور مغربی یورپی ریاستوں میں اسی کی نسل سے ملتا جلتا جیگوار پایا جاتا ہے لیکن اسکا رنگ کالانہیں ہوتا۔ مختلف کارٹونز اور فلموں میں نظر آنے والایہ جانور (بلیک پینتھر) حقیقت میں ایک تیز رفتار اور چالاک شکاری ہوتا ہے اور زیادہ تر رات کے اندھیرے میں شکار کرتا ہےاور دن کے وقت گھنے جنگلوں میں درختوں میں روپوش رہتا ہے۔ آج تک کوئی نہیں جان سکا کہ اس کے کالے رنگ کی کیا وجہ ہے۔یہ بلی کی نسل بگ کیٹ سے بھی منسلک بتایا جاتا ہے۔ اس جانور کو بلیک جیگواریعنی کالاتندوا ، لیوپارڈ اور میلے نیز بھی کہا جاتا ہے۔ اسی جانور کے رشتے دار جو زیادہ تر پہاڑوں پر پائے جاتے ہیں ان کا رنگ عموماََ سفید اور سلیٹی مائل ہوتا ہے ۔ بلیک پینتھر کی جلد اور دیگر اعضاء انتہائی لچک دار ہوتے ہیں جو اس کے خطرناک شکاری ہونیکی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس کا رنگ دیکھنے میں تو کالاہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کے جسم پر ہلکے پھورے رنگ کے ڈاٹس ہوتے ہیں جیسا کہ عام تیندوے پر واضح دکھائی دیتے ہیں ۔ عمل تولید کے بعد پیدا ہونیوالے بچے گہرے کالے رنگ کے ہونگے لیکن افزائش کے بتدریج ان کی بلیک کوٹ میں ہلکے بھورے رنگ کے ڈاٹس نمایاں ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ ان کی آنکھیں ہلکی پیلی ہوتی ہیں جو کہ رات میں چمکتی ہیں ۔ ان کا وزن 60سے70کلوگرام تک ہوسکتا ہے۔ یہ ایک سے دو میٹرز تک لمبے ہوسکتے ہیں ۔ چیتے کی نسبت ان میں شکار کو سونگھنے کی طاقت زیادہ ہوتی ہے اور شکار کرتے وقت اسکی سرعت عام چیتے سے بھی زیادہ ہے۔ یہ 60سے 80کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ سکتا ہےجبکہ اسکی چھلانگ 6میٹر تک ہوسکتی ہے۔ عام طور پر یہ جانور 12سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ جانور انڈیا کے مختلف علاقوں جیسے اڑیسا، آسام اور چھتیس گڑھ میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس جانور کو تنہائی پسند ہے اور عام طور پر یہ دیگر جنگلی جانوروں اور انسانی آبادی سے دور رہتے ہیں ۔ پانچ سے چھ دن تک یہ جانور بغیر کھائے پئے زندہ رہنے کی قابلیت کا حامل ہے
بلیک پینتھر (لیوپارڈ) ۔۔۔۔۔ کالاچیتا بلیک پینتھر (لیوپارڈ) ۔۔۔۔۔ کالاچیتا Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 7:44 AM Rating: 5

برازیل کے امیزون جنگلات کا رقبہ پاکستان سے سات گنا زیادہ ہے



برازیل کے امیزون جنگلات کا رقبہ پاکستان سے سات گنا زیادہ ہے۔ ان جنگلات میں ایک قبیلہ بولسینارو رہتا ہے جس کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ وحشی آج بھی پتھر کے دور میں زندہ ہیں اور جنگلوں اور پہاڑوں میں جھونپڑیاں بناکر رہتے ہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ یہ جنگلی قبیلہ آدم خور ہے۔ یہ برازیل اور ارجنٹینا میں بستیوں پر حملے کرتے ہیں اور درجنوں افراد کو اغوا کرکے لے جاتے ہیں۔ پھر انھیں قتل کرکے ان کا گوشت کھاتے ہیں۔ جب انھیں زندہ انسان نہیں ملتے تو یہ قبرستان میں گھس کر لاشیں نکال لیتے ہیں۔ اسی لیے جو بستیاں ان جنگلات کے قریب قائم ہیں وہاں قبرستان نہیں بنائے جاتے بلکہ لوگ اپنے پیاروں کو کئی سو میل دور شہری قبرستانوں میں سپرد خاک کرتے ہیں۔
کئی سال سے امیزون کے جنگلات میں تیل اور گیس کی تلاش جاری تھی۔ گزشتہ سال ایک یورپی تیل کمپنی کو کامیابی ہوئی اور بڑے ذخائر نکل آئے۔ اس تلاش اور تحقیق کے دوران کمپنی کو سب سے بڑا مسئلہ یہ پیش آیا کہ بولسینارو قبیلے کے جنگلی شب خوب مارتے تھے اور انجینئرز اور ان کے عملے کو اٹھاکر لے جاتے تھے۔ بعد میں ان کی چبائی ہوئی ہڈیاں ہی ملتی تھیں۔
تیل کمپنی نے اس مسئلے کا حل سوچا اور اپنے ایلچی کو بولسینارو قبیلے کے سردار کے پاس بھیجا۔ ایلچی نے سردار کو پیشکش کی کہ ہم تمھیں لاکھوں ڈالر اور تیل نکلنے کی صورت میں منافع میں شراکت دیں گے۔ ہمیں یہاں کام کرنے دو۔
سردار نے کہا کہ ڈالر اور تیل ہمارے لیے بے معنی ہیں۔ خدا کا دیا وہ سب کچھ ہمارے پاس ہے جو ہمیں چاہیے۔ ہمیں صرف انسانوں کی لاشوں کی ضرورت ہے کیونکہ جب ہمیں انسان نہیں ملتے تو جانوروں کا گوشت کھانا پڑتا ہے جس سے ہم بیمار ہوجاتے ہیں۔
برازیل کی حکومت نے تیل کمپنی کی درخواست پر امیزون کے جنگلات میں آپریشن کیا لیکن اسے کافی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر کئی مقامات پر جنگل کو آگ لگائی گئی لیکن آدم خور قبیلے نے اپنی جگہ بدل لی اور اسے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری طرف آگ کی خبریں دنیا بھر کے میڈیا میں آئیں اور ماحولیات کی تنظیموں نے ہاہاکار مچادیا جس کے بعد برازیل کی حکومت کو وہ سلسلہ روکنا پڑا۔
تھک ہار کے تیل کمپنی نے برازیل کے پڑوسی کولمبیا سے رابطہ کیا اور وہاں مافیا کو لاکھوں ڈالر دے کر گینگ وار کروائی۔ ہر ہفتے اس گینگ وار کا نشانہ بننے والے درجنوں افراد کی لاشوں کو ٹرکوں میں بھر کے امیزون کے جنگلات پہنچایا جاتا تاکہ تیل کمپنی کے کام میں رکاوٹ نہ آئے۔
گزشتہ سال تیل کمپنی کی تلاش کے نتیجے میں نہ صرف تیل بلکہ گیس کے بڑے ذخائر بھی نکل آئے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی مالیت لاکھوں ارب ڈالر ہے۔ مسئلہ بدستور وہی ہے کہ تیل کے کنوؤں اور گیس فیلڈ کی تعمیر کے لیے لاکھوں آدم خور قبائلیوں سے جنگ کی جائے یا انھیں لاشیں فراہم کی جائیں۔
بولسینارو قبیلے کے سردار سے مذاکرات ہوئے تو اس نے مطالبہ کیا کہ قبائلیوں کو ہر ہفتے بیس ہزار لاشیں فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف حملے نہیں کریں گے بلکہ ازخود اس علاقے سے دور چلے جائیں گے۔
تیل کمپنی نے برازیل اور ارجنٹینا کی حکومتوں سے بات کی لیکن کوئی اتنی بڑی تعداد میں لاشیں فراہم کرنے کو تیار نہیں ہوا۔ آخر ایک فارماسوٹیکل کمپنی نے مدد کی اور کروڑوں ڈالر کے عوض ایک مہلک وائرس دنیا میں پھیلانے کا آئیڈیا پیش کیا۔ تیل کمپنی کو کھربوں ڈالر نظر آرہے تھے۔ اس کے لیے چند کروڑ ڈالر کی کیا اہمیت تھی۔ اس نے آئیڈیا قبول کرلیا۔
فارماسیوٹیکل کمپنی اور عالمی ادارہ صحت اس سازش میں شریک بن گئے۔ انھوں نے مختلف حکومتوں سے کہا کہ آپ وائرس کے بہانے لوگ مارتے جائیں اور پانچ ہزار ڈالر میں ایک لاش ہمیں دیتے جائیں۔ اس کے ساتھ عوام کو ڈراتے جائیں کہ میتوں کی تدفین حکومت کرے گی ورنہ وائرس پھیل جائے گا۔
یہ اس قدر بڑا عالمی منصوبہ ہے اور اس میں اتنی بڑی رقم لگی ہوئی ہے کہ چار پانچ ماہ میں چار لاکھ لاشوں کا سودا ہوچکا ہے اور کہیں شور نہیں مچ رہا۔
برازیل کے ایک بلاگر البرٹو فرنانڈز نے یہ ساری تفصیل اپنی ویب سائٹ پر لکھی تھی لیکن اس کے چند دن بعد ویب سائٹ بند ہوگئی اور بلاگر تب سے لاپتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اسے آدم خور جنگلیوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔
بلاگر نے لکھا تھا کہ آئل اور گیس فیلڈ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد نیٹو کی فوج اس کی سیکورٹی سنبھالے گی اور تب ہوسکتا ہے کہ امیزون کے جنگل میں آپریشن کرکے آدم خور جنگلیوں کو مار دیا جائے یا دور دھکیل دیا جائے۔
آئل اینڈ گیس فیلڈ مکمل ہونے میں مزید چھ ماہ لگیں گے اور تب تک ہر ماہ مبینہ وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی ایک لاکھ لاشیں برازیل جاتی رہیں گی۔ اسی لیے عالمی ادارہ صحت بار بار کہہ رہا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین بننے میں چھ ماہ سے زیادہ لگیں گے۔

(تحریر: مبشر علی زیدی)


برازیل کے امیزون جنگلات کا رقبہ پاکستان سے سات گنا زیادہ ہے برازیل کے امیزون جنگلات کا رقبہ پاکستان سے سات گنا زیادہ ہے Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 6:43 PM Rating: 5

ریاست مدینہ کے داعی



ریاست مدینہ کے داعی

یہ ہر گھر کی کہانی ہے خواہ وہ پرائیویٹ جاب کر رہیں ہوں یا چھوٹا سا بزنس غریب کے گھر میں ایک فرد کما رہا ہوتا ہے اور کھانے والوں کی اس ایک فرد پر نظر۔اور اسرا کہ ہم بھوکے نہیں مریں گے۔

کسی گھر میں کمانے والا بیٹا کسی میں والد اور کسی میں ماں یا پھر بہین۔
🌹ریاست مدینہ کے داعی سے اپیل

۔۔۔جناب وزیراعظم پاکستان

مسندِ اقتدار پر بیٹھے آپ کیا جانیں ، تین ماہ لاک ڈاؤن کی اذیت کیا ہے، لیکن اگر فرصت ملے تو قوم کی بیٹی کی اس فریاد 🙏 اور داستانِ کرب کو پڑھ لیں،جو ہر گھر کی کہانی ہے۔

3مہینے سے لاک ڈاون کی ازیت کیا ہے یہ کسی غریب کے گھر دروازہ کھٹکھٹا کر پوچھ لیں۔وہاں کی خاموشی اپکو چیخ چیخ کر بتا دے گی کہ کس طرح بھوک اور افلاس سے تو لڑ ہی رہے ہیں ساتھ بوڑھے والدین دوائیوں پر جو جی رہے تھے وہ بھی پورے نا سہی تو آدھے مر چکے ہیں۔اپکے 12 ہزار جن گھروں تک پہنچے ہیں ان 12 ہزار سے وہ گھر کا کرایہ دیں بجلی کے بل یا بچوں کے لیے کھانے کا بندوبست؟
آپ کے دور اندیشانہ فیصلے، کورونا کو پھیلنے سے تو نہیں روک سکے لیکن ہر گھر کی چھوٹی سی خوشیوں کو یقیناً برباد کر گئے ہیں.

کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ریاستِ مدینہ میں ایسا وقت بھی آئے گا، رعایا بھوک سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوگی، بیٹیوں کی عزت کی بولیاں لگیں گی اور #راعی اپنی زوجہ کے ساتھ نتھیا گلی کی سیر کر رہا ہوگا.

تین ماہ سے تنخواہ بند، ٹیوشن بند، مزدوری بند،جن کے جو زریعے تھے کمانے کے وہ بند
بس گھر کے اثاثے بیچ کر گھر کے کرایہ دے رہے ہیں غریب لوگ۔
یہ ہر گھر کی کہانی ہے۔
غربت دیکھ کر کہیں اماں نے دوائی لینے سے انکار کر دیا اور کسی نے 2 روٹی سے ایک کھانی شروع کر دی۔
رمضان المبارک تو روزوں میں گزر گیا اور بھرم بھی رہ گیا اور رب کو راضی بھی کر لیا
یہ جو فیس بک اور سوشل میڈیا پر بازار دیکھائے گئے کہ غریب عوام شاپنگ کرتے ہوئے یہ ہر گھر کی کہانی نہیں تھی۔جن گھروں کی کہانی تھی آخر بچوں کو راضی بھی تو کرنا تھا ماں باپ نے۔

اے ریاستِ مدینہ کے داعی،

اگر دل رکھتے ہو تو قوم کی بیٹی کی اس فریاد پر خدارا ذرا غور کرنا.
ملک میں سترہ لاکھ پرائیویٹ اسکول ٹیچرز بے۔پرائیویٹ جاب والے بے روزگار ہوئے ہیں،جسکا جو زریعہ معاش تھا سب ڈھیر۔ ہم نہ تو ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی امداد کے لئے لائن میں کھڑے ہوسکتے ہیں، ہماری سفید پوشی کا بھرم رکھنا....

میں قوم کی بیٹی آپ کی خدمت میں ان سترہ لاکھ خاندانوں کی فریاد رکھتی ہوں، تمام پرائیویٹ اسکول ملازمین کو اور جس گھر میں کمانے والا ایک فرد ہو خواہ وہ ماں کے روپ میں ہو یا باپ بھائی کے روپ میں لاک ڈاؤن کے دوراں قرض حسنہ کے طور پر ماہانہ الاؤنس دیا جائے، جو کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں انکے کرائے حکومت ادا کرے انکو بجلی کے بل معاف کیئے جائیں۔
یا پھر لاک ڈاون ختم کیا جائے جب مرنا ہی مقدر ہے تو پھر بھوک سے مرنے سے بہتر ہے بیماری میں مر جائیں ۔

اے داعی ریاست مدینہ،،،

اگر یہ نہیں کر سکتے ہو تو ایک کام کریں، ہمیں چھ فوٹ زمین کا ٹکڑا دیا جائے جہاں سکون سے سو سکیں، اور مرنے کے بعد کسی کی درندگی کا شکار نہ ہو سکیں

ریاست مدینہ کے داعی ریاست مدینہ کے داعی Reviewed by SaQLaiN HaShMi on 8:26 AM Rating: 5
Theme images by lucato. Powered by Blogger.